آئندہ اگر آپ نے ان 6 چیزوں کے بارے میں فیس بک پر کچھ لکھا تو آپ کا اکاﺅنٹ ختم کردیا جائے گ

سان فرانسسکو(نیوز ڈیسک)فیس بک آج کل ہر کوئی استعمال کرتا ہے، آپ بھی کرتے ہوں گے، اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں، البتہ یہ خیال رہے کہ اب فیس بک پر کچھ باتوں سے پرہیز کرنا لازم ہے ورنہ آپ یہ اہم سوشل میڈیا ویب سائٹ استعمال کرنے کے حق سے محروم ہو جائیں گے۔ معاملہ کچھ یوں ہے کہ حال ہی میں فیس بک صارفین کا ڈیٹا چوری ہونے کے متعلق ایک بڑا سکینڈل سامنے آیا جس کے بعد فیس بک نے اس معاملے پر خصوصی توجہ دی ہے اور بالآخر نئے ضوابط تیار کر لئے ہیں جنہیں ’کمیونٹی سٹینڈرڈز‘ کا نام دیا گیا ہے۔ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے اس موضوع پر لکھے گئے بلاگ میں بتایا ہے کہ کمیونٹی سٹینڈرڈز کی خلاف ورزی کرنے والے صارف کو وارننگ دی جائے گی لیکن اس کے باوجود خلاف ورزی جاری رہی تو اس پر پابندی عائد ہوسکتی ہے اور اس کا پروفائل ڈس ایبل کیا جاسکتاہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اگر فیس بک سمجھے گی کہ کسی صارف کے پوسٹ کئے گئے مواد سے کسی دوسرے صارف کو نقصان پہنچ سکتا ہے تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی اطلاع کی جاسکتی ہے۔
پہلی چیز جس کے متعلق احتیاط برتنا بہت ضروری ہے تشدد اور دھمکی پر مبنی مواد ہے۔ فیس بک کے ذریعے کسی کو بھی دھمکی دینے کی اجازت نہیں ہوگی اور نہ ہی ایسا مواد پوسٹ کیاجاسکے گا جس میں تشدد دکھایا گیا ہو۔

جو صارف فیس بک کے ذریعے منشیات فروشی، ہتھیار فروشی، یا جرائم کو بڑھاوادینے، یا فراڈ کرنے کی کوشش کرے گا اس کے خلاف بھی فوری ایکشن لیا جائے گا اور اس کا اکاﺅنٹ بند کر دیا جائے گا۔
عوامی سطح پر تشدد کو ہوا دینے، لوگوں کو مسلح کارروائی پر اکسانے جیسے معاملات پر اکاﺅنٹ بھی بند کیا جائے گا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع بھی دی جائے گی۔

فیس بک پر صارفین کے تحفظ کو خصوصی اہمیت دی جائے گی۔ کوئی بھی ایسا صارف جو فیس بک کے ذریعے کسی دوسرے صارف کو ہراساں کرے گا یا اس کی تصاویر یا ویڈیوز کا غلط استعمال کرے گا اس کا اکاﺅنٹ بند کردیاجائے گا۔
فیس بک پر نفرت انگیز مواد پوسٹ کرنا، تشدد کی تصاویر یا ویڈیوز پوسٹ کرنا، برہنہ تصاویر پوسٹ کرنا بھی کمیونٹی سٹینڈرڈز کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔

جعلی اکاﺅنٹس فیس بک کا بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لئے صارفین کو نیا اکاﺅنٹ بناتے وقت اپنی اصل شناخت بتانا ہوگی جبکہ پہلے سے موجود اکاﺅنٹس کے لئے بھی نئی شرائط متعارف کروائی گئی ہیں تاکہ ہر صارف اپنی اصلی شناخت کے ساتھ ہی اکاﺅنٹ استعمال کرے۔

کاپی رائٹ قوانین کو اس سے پہلے فیس بک پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی تھی لیکن اب اس معاملے میں بھی سختی برتی جائے گی۔ کوئی بھی صارف جو کسی اور کی تخلیق کردہ تحریر، تصویر یا ویڈیو کو حوالہ دئیے بغیر پوسٹ کرے گا اس کے خلاف کاروائی ہو گی۔ دوسروں کا تخلیق کردہ مواد بغیر اجازت پوسٹ کرنے والے کو بھی پہلے وارننگ دی جائے گی اور اگر دوبارہ ایسی غلطی ہوگی تو اس کا اکاﺅنٹ بند کردیا جائے گا۔

فیس بک پر کسی بھی صارف کی جانب سے پوسٹ کئے گئے مواد کے متعلق اگر کسی حکومتی ادارے کی جانب سے شکایت موصول ہوگی تو شکایت کا جائزہ لے کر ایسے صارف کا اکاﺅنٹ بند کردیا جائے گا۔ مثال کے طور پر بچوں کے ساتھ بدسلوکی، تشدد یا جنسی زیادتی جیسے مجرمانہ افعال پر مبنی پوسٹ کیا جانے والا مواد اس کیٹگری میں شمار ہوگا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ اگر والدین کی جانب سے بھی متنازع مواد کے خلاف شکایت موصول ہوئی تو ایسا موا دپوسٹ کرنے والے صارف کو کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں