ڈونلڈ ٹرمپ کے افغانی حمایتی کے ساتھ طالبان نے کیا کیا

ڈونلڈ ٹرمپ کے افغانی حمایتی کے ساتھ طالبان نے کیا کیا
گزشتہ مہینے اٖفغانستان کے علاقے لوگار میں 300 سے زاید افراد نے ڈونلڈ ٹرمپ کو بہادری کا تمغہ دینے کا اعلان کیا اس تمغہ کو تیار کرنے والے کا نام گل نبی تھا جس کو طالبان نے گزشتہ دن بم دھماکہ سے اڑا دیا ۔ تفصیلات کے مطابق لوگر کے سرداروں نے باہمی مشورے کے بعد اعلان کیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو بہادری کا تمغہ دیا جائے گا اور یہ تمغہ بنانے کے بعد امریکہ کے سفارت خانے کو حوالے کر دیا گیا اور یہ جرمنی میں دیا جانا تھا مغہ شجاعت ڈیزائن کرنے والا گل نبی چن ماہ تک طالبان سے چھپ چھپا کر زندگی بچانے کے بعد بالآخر طالبان کے ہاتھوں

انجام کو پہنچ گیا۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے گل نبی کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ لوگار کے قریب دھماکے میں ان مجرموں میں سے ایک مارا گیا ہے جنہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کو تمغہ دیا تھا۔ اس کا نام گل نبی تھا اور اسی نے وہ تمغہ ڈیزائن کیا تھا۔“افغان حکام کی جانب سے گل نبی کے قتل کے بعد ردعمل بھی سامنے آیا ہے اور افغان وزارت دفاع کے ترجمان جنرل محمد ردمانیش کا کہنا ہے کہ ”طالبان دہشتگردی کے اس عمل کی توجیہہ اسلامی یا کسی بھی قانون کے تحت

پیش نہیں کرسکتے۔ وہ ہر اس شخص کو نشانہ بناتے ہیں جو انسانیت کی خدمت کرتا ہے۔ جس آدمی کو انہوں نے قتل کیا وہ تنہا نہیں تھا بلکہ اس میں لوگار کے سب لوگ شامل تھے کیا ان کے پاس کسی قسم کی توجیہ ہے جس سے وہ یہ بات ثابت کر سکے کہ ان کا یہ فعل بالکل ٹھیک تھا ۔ اس واقعہ کے بعد عالمی میڈیا میں بھی بحث ہو رہی ہے اور ہر کوئی یہی پوچھ رہا ہے کہ ایسا کیوں کیا گیا اور کیا کسی سے محبت کا اعلان موت کے مترادف ہے اور کیا یہی اسلامی روایات ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں