روپے کی قدر میں مزید کمی اور ڈالر کے اڑنے کا امکان

پاکستان کی خراب معیشت اور قرضوں کے بوجھ تلے دب جانے کی وجہ سے یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کی کرنسی کی قدر میں مزید کمی ہوسکتی ہے جس کی وجہ سے ڈالر کی قیمت میں مزید اضافہ کا امکان ہے اور اس کے ساتھ ممکن ہے کہ ڈالر کی قیمت

140 تک چلی جائے ۔ یہ بات اورینٹ ایکسچینج کے سی ای او راجیو رائے پنچولیا نے کی ۔ اس کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس وقت معاشی حالات میں اتار کا سامنا ہے اور اس میں سب سے بڑا فیکٹر آئی ایم ایف کی ادائیگیاں ہیں جس کی وجہ سے پاکستان نے چائنہ کے بینکوں سے قرضہ لینا

شروع کر دیا ہے اور اس کے بعد خراب سیاسی صورت حال کی وجہ سے پاکستان کی معاشی حالت بھی خراب ہو رہی ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئیندہ کچھ سالوں میں ڈالر کی قیمت میں 15 سے 25 فیصد تک اضافہ متوقع ہے ۔ پاکستان کے زرمبادلہ کے

ذخائر مئی 2017ء میں 16.4 ارب ڈالر تھے جو اب کم ہوکر 10.3 ارب ڈالر پر آچکے ہیں۔ ادائیگیوں کے توازن کو آسان بنانے کیلئے متوقع ہے کہ پاکستان چین سے ایک سے دو ارب ڈالر کا قرض لینے والا ہے۔ عالمی ریٹنگ ایجنسیاں بھی توقع ظاہر کررہی ہیں کہ 2019ء میں پاکستانی روپے کی قدر کم ہوگی اور ایک ڈالر 125 روپے تک پہنچ جائے گا یعنی ایک درہم تقریباًٍ 34.1 روپے کا ہوگا۔گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستانی روپے کی قدر ڈالرکے مقابلے میں سالانہ پانچ فیصد کی

شرح سے کم ہوتی جارہی ہے اور آنے والے چند سالوں میں یہ رجحان جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔اس کے ساتھ پاکستان اسٹیٹ بینک نے ایکسچینج کمپنیوں کو ہدایت کی ہوئی ہے کہ جو بھی ٹرانزکشن 500 ڈالر سے زائد کی ہو اس کا ریکارڈ رکھا جائے تا کہ

ملک میں سے باہر جانے والے ڈالر کا حساب رکھنا ممکن ہو سکے اور ہنڈٰی کو کنٹرول کیا جاسکے تا کہ غیر قانونی طور پر کسی بھی حالت میں ڈالر منتقل نہ کیا جا سکے اور پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر کو ایک حد میں رکھا جا سکے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں