9

سعودی عرب منشیات کی سمگلنگ میں کون سے ’’ادارے‘‘ ملو ث ہیں؟

اسلام آباد (نیوزڈیسک)قومی اسمبلی کو وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے بتایا ہے کہ سپین کی جیلوں میں بند 177 پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کے لئے حکومت اپنا کردار ادا کرے گی ٗ سعودی عرب کی جیلوں میں اقامے یا چیک کیش نہ ہونے کی وجہ سے بند ہیں۔ جمعہ کو وقفہ سوالات کے دوران طاہرہ اورنگزیب کے سوال کے جواب میں وزارت خارجہ کی طرف سے قومی اسمبلی کو تحریری جواب میں بتایا گیا کہ سپین کی جیلوں میں پاکستانی قیدیوں کی تعداد 177 ہے۔وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے ضمنی سوال کے جواب میں کہا کہ ہم

کوشش کر رہے ہیں جس ملک میں بھی پاکستانیوں کی تعداد زیادہ ہے وہاں پر کمیونٹی ویلفیئر دفاتر کی تعداد بڑھائی جائے تاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی شکایات کا ازالہ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ سپین کی جیلوں میں بند 177 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کرانے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ یہاں سے منشیات سمگلنگ کی جاتی ہے۔ اینٹی نارکوٹکس کو چاہیے کہ وہ سمگلنگ کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات اٹھائیں تاکہ سمگلروں کو یہاں ہی گرفتار کیا جاسکے اور وہ بیرون ملک پاکستان کی بدنامی کا باعث نہ بنیں۔ وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا کہ سعودی عرب میں اس وقت 26 سے 27 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں۔ سعودی عرب کی جیلوں میں اقامے یا چیک کیش نہ ہونے کی وجہ سے بند ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لئے سعودی عرب میں بھی کمیونٹی ویلفیئر دفاتر کی تعداد بڑھائی جا رہی ہے۔ اجلاس کے دوران محمود خان اچکزئی نے کہاکہ 2800 پاکستانی سعودی عرب میں قید ہیں، سعودی عرب میں قیدپاکستانیوں کاکوئی پرسان حال نہیں، پاکستانی قیدیوں کے معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، غریب لوگوں کوپیسیدیکرمنشیات بھجوائی جاتی ہے، غریب لوگ سعودی عرب پہنچ کرگرفتارہوتے ہیں ،سرقلم کردیاجاتاہے۔جواب میں خواجہ آصف نے بتایاکہ پاکستانی کمیونٹی کے مسائل کی عالمی فورم پربات کی، سعودی عرب میں پاکستانی قیدی موجود ہیں، کچھ شہری ویزے کی میعاد ختم ہونے پرقید ہیں، سعودی عرب میں ہمارے لوگوں کوشکایات بھی ہیں اورمشکلات بھی،ہزاروں پاکستانی روزانہ سفارتخانے سے رابطہ کرتے ہیں۔ ان کاکہناتھاکہ اے این ایف ،ایف آئی اے کی سر پرستی کے بغیر منشیات کی سمگلنگ ممکن نہیں،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں