5

شریف کا نواز شریف کے بارے میں قائد اعظم سے متعلق دعویٰ

خواتین وحضرات ۔۔ آج پاکستان مسلم لیگ ن کی جنرل کونسل نے میاں شہباز شریف کو نیا پارٹی صدر منتخب کر لیا‘ میاں شہباز شریف نے اپنی صدارتی تقریر میں دعویٰ کیا ’’ محمد نواز شریف کل بھی ہمارے قائد تھے،آج بھی ہمارے قائد ہیں اورکل بھی ہمارے قائد رہیں گے۔ انہوں نے کہاکہ میں دیانتداری سے سمجھتا ہوں کہ یہ صرف مسلم لیگ(ن) کی نہیں بلکہ پاکستان اور پاکستان بھر کے عوام کی خوش قسمتی ہے کہ انہیںمحمد نوازشریف جیسا قائدنصیب ہوا۔ میں سمجھتا ہوں کہ نوازشریف ہی وہ پاکستانی سیاستدان اوررہنماء ہیں جنہیں قائد اعظم محمد علی جناحؒ

کا سیاسی وارث قرار دیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ محمد نوازشریف نے امریکہ کی جانب سے 5ارب ڈالر کی امداد کی پیشکش کو پایہ حقارت سے رد کیا اور قوم کے عظیم مفاد کو سامنے رکھا۔ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا۔ ایٹمی دھماکوں کے ذریعے ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے سے لیکرملک کے طول وارض میں پھیلی ہوئی موٹر ویز اورکسانوں کیلئے اربوں روپے کے پیکیجزتک اورپھر عوام کو مسلح افواج کی قربانیوں اور بے مثال تعاون کے ذریعے دہشت گردی سے نجات دلانے سے لے کرلوڈ شیڈنگ کے خاتمے تک یہ وہ تمام اقدامات ہیں جن کے پیش نظر مستقبل کا مورخ نوازشریف کو بانیان پاکستان کے بعد ہر اعتبار سے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا مدبر اور محترم رہنما تسلیم کرنے پر مجبور ہوگا‘‘۔ ہم سب کو۔۔اس گندی سیاست میں قائداعظم جیسی پاک ہستی کو ملوث نہیں کرنا چاہیے‘ میرا ذاتی خیال ہے کوئی کھرب پتی شخص‘ کوئی لندن‘ جدہ اور دوبئی میں جائیدادوں اور کمپنیوں کا مالک‘ کوئی انڈسٹریلسٹ‘ پانامہ سکینڈل میں ملوث کوئی شخص‘ آمریت کے گملے سے جنم لینے والا کوئی سیاستدان اور قانون اور آئین کو اپنی سیاسی بقا کیلئے استعمال کرنے والا کوئی شخص قائداعظم کا وارث نہیں ہوسکتا‘ قائداعظم ایک ایسی ہستی تھے جنہوں نے اپنا سب کچھ ملک کیلئے وقف کر دیا تھا‘ جنہوں نے آخری سانس تک قانون کی پابندی کی‘ اپنے لئے دوسری ایمبولینس تک ائیر پورٹ لانے سے منع کر دیا اور اپنی ساری جائیداد‘ ساری دولت تعلیمی اداروں کیلئے وقف کر دی تھی‘ آپ ہزار ہزار ایکڑ کے محلات میں رہنے اور ورساشے کے صوفوں پر بیٹھنے والے لوگ قائداعظم کے وارث کیسے ہو سکتے ہیں‘۔۔کتھے مہر علی ۔۔کتھے تیری ثناء لہٰذا میری درخواست ہے آپ مہربانی فرما کر ۔۔اس سیاسی منڈی میں قائداعظم کا نام لینا بند کر دیں‘ آپ کوئی اپنا جد امجد تلاش کریں‘ (اس) کے وارث بنیں اور ہمارے قائد کو ہمارے لئے چھوڑ دیں‘ آپ (ان) کا نام آلودہ نہ کریں‘ یہ آپ کی ۔۔اس ملک پر بہت بڑی مہربانی ہو گی‘ ہم آج کے موضوع کی طرف آتے ہیں۔کیا واقعی اگلا الیکشن ووٹ کی عزت پر لڑا جائے گا‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا جبکہ آج ایک اور جوتا چل گیا‘ آج گجرات میں علیم خان پر بھی جوتا پھینک دیا گیا‘ یہ افسوس ناک ٹرینڈ کہاں تک جائے گا‘ ہم اس پر بھی بات کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں